زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوچکا ہے کہ کربلا میں یزیدی لشکر کے مقابلے میں جان کی بازی لگانے والے امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کے اصحاب و انصار اس جنگ کے حقیقی فاتح تھے۔
بقول اقبال:
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
کربلا میں امام حسین (ع) اور احیائے اسلام کے دیگر شہداء جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر اسلام کو حیات نو ملی. عاشورا کے مختصر سے لشکر کے قائد اور اس کے ہر سپاہی نے دنیا والوں کو ظلم کے خلاف پورے قد سے کھڑے ہونے کا درس دیا اور انہیں بتایا کہ اس راہ میں مرنے والے مرتے نہیں بلکہ ان کے دشمن لعن دائم کے حقدار ٹہرتے اور وہ خود ابد تک زندہ و جاوید ہوجاتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے خون نے اسلام کو زندہ کیا ہوتا ہے اور جب تک اسلام زندہ و پائیدار ہے اسلام کی راہ میں مرنے والوں کو بھی زندہ ہی رکھتا ہے۔یہاں یہ نکتہ خاص طور پر ذکر کرنا مناسب ہے کہ انسان بہرصورت مرتا ہے بلکہ ہر زندہ شیئے کو موت ضرور آتی ہے اور کیا خوب ہے کہ انسان اپنی پسند کی موت مرے اور شہادت کو گلے لگادے اور ہمیشہ کے لئے زندہ رہے. (*)کربلا اس قرآنی قاعدے کا عملی نمونہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کے انصار و اعوان شہید ہوگئے تو یزید اور اس کے گورنر ابن زیاد نے فتح کا جشن منایا مگر ان کا یہ جشن زیادہ طویل عرصے تک جاری نہ رہ سکا۔عقیلۂ بنی ہاشم کوفہ میں داخل ہوتے ہی عزاداری کا اہتمام کیا. اونٹ کی پشت پر سے خطبہ پڑھا؛ کوفی جو "خوارج کے اسیروں" کا تماشا دیکھنے آئے تھے اچانک نئی صورت حال کا سامنا کررہے تھے اور انھوں نے دیکھا تھا کہ ان کے نبی (ص) کے خاندان کو اسیر کرکے لایا گیا ہے چنانچہ وہ گریہ و بکاء میں مصروف ہوگئے تھے؛ سیدہ زینب (س) نے عزاداری کا نمونہ پیش کرکے کوفیوں کو خواب غفلت سے بیدار کردیا تھا اور ہمیں بتادیا تھا کہ عزاداری کا مقصد غفلتوں کا خاتمہ اور لوگوں کو صالحین کی صلاحیت کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دلانا ہے۔اہل بیت علیہم السلام کے حرم کی اسیری کی پہلی رات سے ہی قیام امام حسین (ع) کا رد عمل شروع ہوگیا اور اسی رات جنگ جمل اور جنگ صفین میں دونوں آنکھوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بزرگ شیعہ رہنما عبداللہ بن عفیف ازدی نے اپنے بیٹوں اور غلاموں کے ہمراہ ابن زیاد کے خلاف قیام کیا۔ وہ پوری رات نابینا ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کی مدد سے یزیدی فوجیوں کے خلاف لڑے اور ابن زیاد کے متعدد فوجیوں کو فی النار کرنے کے بعد شہید ہوئے اور یوں فتح کا جشن اموی بادشاہت کے لئے ڈراؤنے سپنے میں تبدیل ہوگیا اور یہی سلسلہ شام کی طرف جاتے ہوئے مختلف شہروں اور قصبوں میں بھی عوامی تحریکوں کی صورت میں جاری رہا۔ امام حسین علیہ السلام ہمیشہ کے لئے دینداروں اور حریت پسندوں کے نزدیک اعلی و ارفع مقام پر فائز ہوئے اور عدل و انصاف کے علمبرداروں کے لئے عملی نمونہ بن گئے اور مؤمنوں کے دلوں کا دھڑکن بن گئے۔ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے پچاس برس بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سنہ 61 ہجری میں ذی القربی کا حق ادا کرتے ہوئے خلافت کے دعویداروں نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کردیا، امام (ع) نے اپنے عزیز قربان کردیئے، خاندان رسول اللہ (ص) بے چین، دختران رسول اللہ (ص) بے پناہ، فرزندان رسول اللہ (ص) اسیر، مصیبت و مظلومیت کے مناظر تاریخ کی آنکھوں میں ثبت اور صدائے ہل من ناصر ابدیت کی سماعتوں میں ضبط ہوگئی اور ان سب واقعات و حقائق کی یادآوری ـ جسے عزاداری کہتے ہیں ـ قیام خونین کی یادآوری ـ جسے شعائر حسینی کا احیاء کہتے ہیں ـ قیام عاشورا کو تسلسل کے ساتھ دنیا والوں کو گوش گزار کرانا ـ جسے نوحہ و ماتمداری کہتے ہیں ـ، نہ صرف مسلمان کو سوچنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ غیر مسلموں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور لوگوں کو عزاداری کی اہمیت سے آگاہ کردیتا ہے۔ کربلا کی یادآوری نے تاریخ میں بہت سوں کو متأثر کردیا ہے اور اس کے دروس، عبرتوں اور پیغامات کا سلسلہ جاری و ساری ہے تو دوسری طرف سے کئی گروہوں نے مختلف قسم کے محرکات کی بنا پر امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقانیت کا انکار کیا ہے:بعض لوگ اعتقادی طور پر اموی خاندان سے وابستگی کی بنا پر ان کی اہداف کے لئے، بعض لوگ دوسرے مکاتب کے نام نہاد راہنما ہونے کی حیثیت سے اپنا مقام و منصب کھونے کے خوف سے، بعض لوگ باطل قوتوں کے مأمورین کی حیثیت سے اور بعض دیگر، انسانوں کی بیداری اور اپنے سیاسی و معاشی مفادات کھونے کے خوف سے امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مخالف اور آپ (ع) کی یاد مٹانے کے درپے ہیں۔ ان سب قوتوں کے محرکات مختلف ہیں لیکن ان کا ہدف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ وہ عزاداری کا خاتمہ چاہتے ہیں یا اسے بگاڑنا اور اس کی شکل و صورت منحرف کرنا چاہتے ہیں یا پھر اس کو پیروان اہل بیت (ع) کے ہدف و مقصد میں تبدیل کرکے مکتب اہل بیت (ع) کو جمود سے دوچار کرنا چاہتے ہیں؛ جبکہ عزاداری وسیلہ ہے جس کے ذریعے ہم امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات اور آپ (ع) کے اہداف و مقاصد سے روشناس ہوتے ہیں اور اس کے ذریعے قیام عاشورا کا پیغام پہنچاتے ہیں مگر بعض عالمی اور اندرونی قوتیں عزاداری کو تشیع کا مقصد قرار دینے پر بضد ہیں اور وہ پیروان اہل بیت (ع) کو ایسا مکتب دینا چاہتے ہیں جس کے لئے دینی اصولوں پر ایمان اور فروعات دین پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے! ہم میں سے بعض لوگ عزادار کہلاتے ہیں لیکن ان کی ذاتی زندگی میں امام حسین علیہ السلام کی روش دیکھنے کو نہیں ملتی حالانکہ دنیا والوں کا اعتراف ہے کہ عزاداری، مرجعیت اور ولایت دین اسلام کی بقاء کے وسائل ہیں اور کہتے ہیں کہ مرجعیت اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کی وجہ سے "اسلام زندہ" اور "تشیع زندہ ترین مذہب" ہے؛ لیکن اگر عزاداری کو ہدف قرار دیا جائے تو ایسی صورت میں یہ خود ہی ہدف ہے اور اسلام و تشیع کی بقاء کی ضامن نہیں ہوسکے گی کیونکہ یہ وسیلہ تو نہیں ہدف ہے!سوال: کیا ہمیں ہمیشہ کے لئے امام حسین علیہ السلام کے لئے رونا چاہئے؟ کیا کوچہ و بازار کو سیاہ پوش کرنا چاہئے؟ کیا ہمیں ہمیشہ کے لئے ماتم و عزا کا اہتمام کرنا چاہئے؟ جواب: بالکل درست ہے، لیکن رونا بھی مقصد نہیں ہے بلکہ گریہ و بکاء بیداری اور مقصدیت کا پیش خیمہ ہے۔ گریہ و بکاء اگر انسان کو نیا مقصد اور نیا عزم دے تو بہت اچھا ہے اور اسی صورت میں اس پر ثواب مرتب ہوتا ہے۔ سوال:کیا نئے زمانے میں عزاداری و ماتم داری کی بجائے پریس کانفرنس، سیمینار اور نشست و اجلاس جیسی جدید روشوں سے استفادہ نہیں کرنا چاہئے؟جواب: امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی کیفیت علماء و مراجع تقلید نے بیان کی ہے اور وہ سارے اعمال جو امام حسین علیہ السلام کی یاد تازہ کرتے ہیں، درست ہیں سوائے ان اعمال کے جو عزاداری کو مخدوش کردیتے ہیں. عزاداری، سوگواری، مجالس و محافل، سیاہ پوشی اور پرچم و بینر نصب کرنے کے ساتھ ساتھ پریس کانفرنس، اجلاس، ٹی وی، انٹرنیٹ، سیٹلائٹ اور تمام جدید وسائل سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے بلکہ استفادہ کرنا چاہئے۔ سوال: اگر امام حسین علیہ السلام کربلا کے فاتح تھے تو شیعیان حسین (ع) جشن منانے کی بجائے عزاداری اور ماتم داری کیوں کرتے ہیں؟ جواب: رسول اللہ (ص) کے وصال کی نصف صدی بعد ہی اتنا عظیم المیہ رونما ہونا؛ خود بخود باعث غم و الم ہے.اللہ تعالی نے فرمایا: قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى. (سورہ شوری آیت 23)ترجمہ: کہئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا صاحبان قرابت کی محبت کے۔مگر اتنا کم عرصے میں حضرت فاطمہ زہراء (س)، حضرت امیرالمؤمنین (ع)، حضرت امام حسن مجتبی (ع) کی مظلومانہ شہادت کے بعد امام حسین (ع) کے ہمراہ خاندان اور بچوں کا وحشیانہ قتل، ششماہہ بچے پر تیر چلانا، شہداء کے جسموں پر گھوڑے دوڑانا، ان کے سر نوک سناں پر کربلا سے شام تک کوچہ و بازار میں پھرانا، حرم رسول اللہ (ص) کو اسیر بنا کر سر دربار لے کر جانا اور تمام مصائب و مسائل جو نواسۂ رسول (ص) پر وارد کئے گئے ہیں، باعث غم و الم ہیں جن کے لئے گریہ و بکاء بالکل فطری عمل ہے اور پھر محض سیمینار یا کانفرنس یا نیوز کانفرنس کے ذریعے مکتب کی حفاظت ممکن نہیں ہے بلکہ ستم کے حکمرانوں کے اس جرم کی صدا دنیا والوں تک پہنچانی کے لئے عزاداری کی ضرورت ہے اور کانفرنس و سیمینار بھی عزاداری ہی کی محافل ہوں تو مفید ہونگے۔ خلاصہ یہ کہ یہ کربلا کی صدا بآواز بلند دنیا والوں تک پہنچانی ہے اور کوچہ و بازار میں جاکر دنیا والوں کو امام حسین علیہ السلام کی حقانیت، مکتب اہل بیت (ع) کی عظمت، حرم رسول اللہ (ص) کی مظلومیت، حکومت صالحین کی ضرورت اور بالآخر روشن مستقبل اور ظہور حضرت بقیۃاللہ (عج) کے انتظار کی ضرورت جتانی ہے۔سوال: عزاداری کیوں؟ جواب: اس کا جواب مندرجہ ذیل سطور میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے جبکہ مندرجہ بالا سطور میں بھی اجمالی طور پر بیان گیا گیا ہے۔ عزاداری وسیلہ ہے؛ اور ہدف۔۔۔!کسی بھی روداد میں وسیلہ اور ہدف دو اہم رکن ہیں اور عزاداری کے موضوع میں وسیلہ اور ہدف کا جائزہ لے کر ہم عزاداری کے فلسفے کا ادراک کرسکتے ہیں۔وسیلہ ہدف کا تابع ہے اور وسیلے کا اعتبار ہدف کے اعتبار سے ہے اور وسیلہ اور ہدف دونوں اہم ہیں۔ وسیلے کا وجود تبعی ہے اور ہدف کا وجود استقلالی ہے۔ اور ہاں ہدف کی اہمیت بہت زیادہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وسیلہ غیر اہم ہے بلکہ ایک لحاظ سے ہدف بھی اپنا اعتبار وسیلے سے ہی حاصل کرتا ہے۔ اور یہ کہ بڑے اور مقدس ہدف کے حصول کا وسیلہ عظیم و مقدس ہوتا ہے۔اب ہم کربلا جاکر اس قاعدے سے استفادہ کرتے ہیں۔ اور اگر ہم ہدف اور وسیلے کے درمیان ربط کا امام حسین (ع) کے قیام اور فلسفہ عزاداری سے موازنہ کریں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ امام حسین (ع) کے قیام کا اعلی ترین ہدف ـ جو فلسفہ عزاداری میں بھی ہدف ہی سمجھا جاتا ہے ـ یہ تھا کہ اسلامی معاشرے کی زعامت و قیادت اور امامت صالحین کے ہاتھوں میں ہونی چاہئے۔ یہ قرآن کا بیان اور اللہ کا ارشاد ہے جہاں فرماتا ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ * إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ.
(سوره انبیاء آیات 105 و 106)
ترجمہ: اور بے شک ہم نے توریت کے بعد زبور میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے ورثہ دار میرے نیک بندے ہوں گے * بلاشبہ اس میں ایک پیغام ہے ان کے لیے جو عبودیت خالق کا احساس رکھتے ہوں۔چنانچہ امام حسین علیہ السلام کا ہدف بہت بڑا ہے اور اس کے احیاء و تحفظ کا وسیلہ بھی بہت بڑا ہونا چاہئے اور عزاداری اس کا وسیلہ ہے۔ البتہ عزاداری کے سوا کئی اور وسائل بھی ہیں جن سے قیام امام حسین علیہ السلام کے اہداف کا تحفظ کیا جاسکتا